PBM

کارہائے نمایاں /امتیازی نتائج

  •  

    Story of Qudratullah and Subhanullah (2 brothers), Pakistan Sweet Home Lahore

    میرانام شہناز بی بی ہے۔ خاوند کی وفات کے بعد میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں بہت پریشان تھی۔ پھر مجھے میری ایک سہیلی کے ذریعے سویٹ ہوم کا پتا چلاتو میں اپنے دو بچوں کو سویٹ ہوم لاہورلے کر آ گئی۔ ادارے ہذا کا عملہ بہت خوش اخلاقی سے پیش آیا اور میرے بچوں کو فوری طور پر سویٹ ہوم میں داخل کر لیا اور ہر طرح کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس طرح میں مطمئن ہو کر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے گھر واپس آ گئی۔اور جب میرے بچے عید کی چھٹیوں پر گھر آئے تو یہ جا ن کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ بہت اچھے سکول میں جاتے ہیں اور باقاعدگی سے قرآنی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اور ٹیوشن بھی باقاعدگی سے دی جا رہی ہے۔ اب میرا بڑا بیٹا کراچی سویٹ ہوم میں شفٹ ہو گیا ہے۔ میں بہت مطمئن اور خوش ہوں کہ کہ ادراہ بہت اچھے طریقے سے تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات بھی خوش اسلوبی سے پور ی کر رہا ہے۔ میرے بچے سویٹ ہوم میں بہتر ماحول اور اعلی تعلیم کی وجہ سے تمام رشتہ داروں میں منفرد نظر آتے ہیں

    Aqib Ali, Pakistan Sweet Home Gujrat

    میرا نام عاقب علی ہے۔ ہم دو بھائی ہیں۔ میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے ابو کو فوت ہوئے 7 سال ہو گئے ہیں۔ پہلے ہم دونوں بھائی محلے کے سرکاری سکول میں پڑھتے تھے مگر جب میرے ابو کی وفات ہوئی تو ہم دونوں بھائیوں نے سکول چھوڑ دیا۔ مجھے میرے کزن سے پتہ چلا کہ اٹک میں ایک ادارہ ہے جس میں بچوں کی رہائش، کھانا پینا اور پڑھائی کا اعلی بندوبست کیا گیا ہے۔ تو میر ی امی اگلے ہی دن ہمیں لے کر اٹک آ گئیں۔ ہمارا داخلہ آرام سے سویٹ ہوم میں ہو گیا۔ بس پھر اگلے دن میرا داخلہ سکول میں بھی ہو گیا اور ہم دونوں بھائیوں نے سکول جانا شروع کر دیا اور دل لگا کر پڑھنا شروع کر دیا۔ میرے Daily جو بھی ٹیسٹ ہوئے اس میں میرے full نمبر آئے اور میں بہت خوش ہوتا۔ پھر اس طرح میں کلاس کا لائق ترین بچہ بن گیا۔ جب رزلٹ آیا تو میری اول پوزیشن تھی پھر اس کے بعد جب میرے رزلٹ پر میری امی مجھے ملنے آئیں تو اس بات پر خوشی اور اطمینان کا اظہارکیا کہ میرے بچے پہلے سے کہیں زیادہ صاف ستھرے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ تمیز دار اور با اخلاق نظر آ رہے ہیں۔

     

     

     

    اختر زمان۔ این سی آر سی ایل، جمرود، خیبر ایجنسی

    اختر زمان، این سی آر سی ایل جمرود خیبر ایجنسی کے طالب علم نے تعلیمی سال14-2013ء کے مڈل سٹینڈر ڈ کے امتحان میں پوری خیبر ایجنسی میں ساتویں اور اپنے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس ذہین طالب علم کو پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور ایجوکیشن آفیسر خیبر ایجنسی نے۔5000 روپے نقد اور اعزازی سند سے نوازا۔

  • نعیم خان۔ این سی آر سی ایل

    بارہ سالہ نعیم خان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اسکا والد زاہد خان پلمبرنگ کا کام کرتا ہے اسکی ماہانہ آمدنی5000 روپے تک ہے۔ نعیم اپنے والد کے ساتھ پلمبرنگ کا کام کرتا تھا۔وہ روزانہ ۸ گھنٹے تک یہ مشکل کام کرتا تھا۔ اسے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا لیکن غربت کی وجہ سے وہ سکول نہیں جا سکتا تھا۔ایک دن اسے کسی آدمی سے پتہ چلا کہ پاکستان بیت المال نے اس علاقے میں قومی ادارہ برائے بحالی اطفال مزدوراں قائم کیا ہے۔ فروری 2006 ء نعیم نے اس سکول میں داخلہ لیا۔ سکول جانے پر نعیم بہت خوش تھا۔ نعیم ان الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ ”مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا، اپنے دوستوں کے ساتھ سکول جانا، کلاس روم میں بیٹھنا، دوستوں سے مقابلہ کرنا بہت پسند تھا مگر غربت کی وجہ سے یہ سب کچھ ناممکن تھا۔ بیت المال کا شکریہ کہ اس نے ہمارے علاقے میں این سے آر سی ایل کھولا اور میری زندگی کی خواہش پوری ہوئی۔ میں نے اس سنٹر میں بہت کچھ سیکھا اور میں اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھاؤں گا“۔نعیم کی خواہش ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور بڑا افسر بنے، اس کے والد اپنے بچے کی تعلیم پر بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا بیٹا بہت محنتی اورگھریلو معاملات میں بہت ذمہ دار ہے۔ اس کا ایک دوست اکبر خان کہتا ہے کہ میں نے اس کو بہت مددگار اور دیانت دار پایا ہے۔

  • محمد اکبر، این سی آر سی ایل، کوئٹہ

    محمد اکبر این سی آر سی ایل، کوئٹہ۔ ٹو‘ کا ایک ہونہار طالب علم ہے۔ وہ اپنی کہانی ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ ”میں نے 2005ء سے 2007ء تک این سی آر سی ایل، کوئٹہ سے پرائمری تعلیم حاصل کی۔ مجھے پورے تعلیمی کیرئیر میں بیت المال نے امداد دی۔میں تقریر، ٹیبلو اور نعت میں بہت اچھا تھا۔ میں نے میٹرک منہاج القرآن ہائی سکول اور ایف ایس سی۔ گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ سے اچھے نمبروں سے پاس کیا۔میں نے میڈیکل ٹیکنیشن کا ڈپلومہ کیا اور آج میں میڈیکل سنٹر میں کام کرتا ہوں۔یہ سب کچھ بیت المال کی معاونت سے ممکن ہوا۔

  • صائمہ اسلم، ڈی وی ڈی ایس، کوئٹہ:

    صائمہ اسلم نے ڈی وی ڈی ایس، سے بیوٹیشن کا کورس مکمل کیا اسکے خاوند کا تین سال پہلے انتقال ہو چکا ہے اور وہ اپنے والدین کے گھر میں رہتی تھی اسکا بھائی اسکے اخراجا ت برداشت کرتا تھا۔ اسکی ایک بیٹی بھی تھی، غربت کی وجہ سے گھر کے اخراجات مشکل تھے۔ اس نے ڈی وی ڈی ایس میں بیوٹیشن کورس میں ایڈمیشن لیااور اسے کامیابی سے مکمل کیا اسکے بعد اس نے اپنے والد کے گھر پر ہی بیوٹیشن کا کاروبار شروع کیا۔محلے کی عورتیں اسکے بیوٹی پارلر پر آتیں اور اس سے اس کو معقول آمدنی شروع ہوگئی۔ اب صائمہ اپنے گھر کے اخراجات خود برداشت کر رہی ہے اور اسکی بیٹی بھی انگلش میڈیم سکول میں پڑھ رہی ہے۔.

  • محمد ظہیر سرور، این سی آر سی ایل، فیصل آباد۔

    محمد ظہیر سرور، این سی آر سی ایل، فیصل آباد۔ میر ا نام محمد ظہیر سرور ولد محمد سرور ہے میں فروری 1992ء میں فیصل آباد میں پیدا ہوا، میرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔میرے والد ایک فیکٹری مزدور ہیں اور ہیپا ٹائٹس کے مریض ہیں غربت کی وجہ سے مجھے بھی ایک گتہ فیکٹری میں مزدور کے طور پر کام کرناپڑ تا تاکہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکوں۔ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا لیکن غربت کے ہاتھوں مزدوری پر مجبور تھا۔ ایک دن ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ فیصل آباد پیپلز کالونی میں بیت المال کا قومی ادارہ برائے بحالی اطفال مزدوراں ہے جہاں بچوں کو مفت معیاری تعلیم اور مالی امداد دی جاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے میں نے اس میں ایڈمیشن لیا مجھے اساتذہ نے محنت سے پڑھایا اور میں نے پرائمری کاامتحان پاس کیا۔ پھر میں نے گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول میں داخلہ لیا اور مڈل امتحان میرٹ سکالر شپ کے ساتھ پاس کیا۔ میٹرک امتحان میں نے 84 فیصد نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ سکالر شپ کی رقم سے میں نے ایف۔ ایس۔ سی گورنمنٹ سائنس کالج سمن آباد سے 82 فیصد نمبر سے پاس کیا۔ اب میں یو ای ٹی لاہور میں انڈسٹریل و مینو فیکچرنگ ڈیپارٹمنٹ سے انجینئرنگ کر رہا ہوں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں اپنی فیملی اور ملک کی خدمت کروں گا اور یہ سب کچھ بیت المال کی معاونت سے ہوا۔

  • مہہ جبین عالم، دستکاری سکول کوئٹہ:

    میں سریاب روڈ کوئٹہ کی رہائشی ہوں، میرے والدین انتہائی غریب اور پرانے خیالات کے مالک تھے۔ جس کی وجہ سے میں کوئی تعلیم حاصل نہ کر سکی، مجھے پتہ چلا کہ بیت المال کا دستکاری سکول غریب اور بے سہارا عورتوں کو مختلف ہنر سکھاتا ہے میں نے اس میں داخلہ لیا اور سلائی، کڑھائی کا کام سیکھنا شروع کیا۔ اساتذہ کی محنت اوراپنی لگن سے میں نے یہ کورس مکمل کیا اور اپنے گھر پر ایک دستکاری سنٹر کھولا۔ جس سے میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے لگی، والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی نے وہ سنٹر بند کرا دیا لیکن میرے انکل کے سمجھانے پر اس نے مجھے دوبارہ سنٹر کھولنے کی اجازت دی، اب یہ سنٹر اللہ کے فضل سے اچھا چل رہا ہے، میں نے صنعت و تجارت کے ڈائریکٹوریٹ سے رجسٹرڈبھی کرایا ہے اب اس کی ۳ شاخیں اور80 طلباء ہیں۔ یہ سب کچھ بیت المال کے دستکاری سکول کے سبب ہوا ہے اب میں اپنے اخراجات خود برداشت کر رہی ہوں اور اپنے خاندان کی کفالت میں مددگار بھی ہوں۔

  • عبدالرحیم‘ کوئٹہ:

    درخواست گزار عبدالرحیم کہتا ہے کہ وہ ایک یتیم ہے اور کاروبار شروع کرنے کے لئے کوئی رقم نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ اس کے والد اس وقت فوت ہوگئے جب وہ میٹرک کا طالب علم تھا۔ بڑاہونے کے ناطے خاندان کی ساری ذمہ داری اس کے کندھے پر آن پڑی۔ اپنے بھائی اور ماں پر مشتمل فیملی کی کفالت کے لئے اپنی تعلیم ترک کرنا پڑی۔ اس مرحلہ پر میں بالکل اکیلا تھا اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا‘ کسی کے بتانے پر میں صوبائی دفتر کوئٹہ گیا اور بحالی پالیسی کے تحت مالی امداد کی درخواست دی۔ میری درخواست پر مجھے۔/28000روپے دیئے گئے۔ میں نے ضلع چاغی میں چھوٹے درجے کا کاروبار شروع کیا۔ چھوٹی سی موبائل شاپ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی۔ تاکہ خاندان کی مدد کر سکوں۔ درخواست گزار آج پاکستان بیت المال کا شکر گزار ہے اور کہتا ہے کہ میں بیت المال ہی کی وجہ سے عزت اور وقار کے ساتھ معاشرے میں جی رہا ہوں اور میری زندگی بدل گئی۔ اس کا خاندان خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے اور بیت المال کے لئے دعا گو ہے۔میرے روشن مستقبل کے لئے بیت المال کا شکریہ۔

  • حسن جہانگیر‘کوئٹہ:

    ایک غریب مجبور بیوہ لوگوں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھو کر اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات پورے کر رہی تھی۔وہ اپنی بچوں کو تعلیم یافتہ اور معزز شہریوں کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھی مگر تعلیم دلانا اس کے بس کا روگ نہ تھا۔ بچوں کے بڑے بھائی سے یہ بے کسی نہ دیکھی گئی اور اس نے پکوڑوں کی دکان پر کام شروع کر دیا اور معمولی آمدن شروع ہو گئی۔ اس دوران کسی عورت نے اس کی ماں کو بتایا کہ اپنے بچوں کو پاکستان بیت المال کے سکول بحالی مزدور اطفال میں داخل کروادے۔ ماں نے کہا کہ میں کتابیں‘ یونیفارم اور جوتے وغیرہ نہیں مہیا سکتی۔ اس عورت نے بتایا کہ یہ سب کچھ تمہارے بچوں کو بیت المال دے گا۔ اور اس کے علاوہ وظیفہ بھی ملے گا۔ وقت ضائع کئے بغیر اس نے اپنے بیٹے کو پکوڑوں کی دوکان سے اٹھا کر این سی آر سی ایل میں داخل کروا دیا۔ پرائمری کے بعد اس بچے کو آئی ایف اے ایجوکیشن کے ذریعے امداد ملتی رہی‘ اس طرح اس نے ایف اے تک تعلیم حاصل کرکے محکمہ پولیس میں بطور سپاہی نوکری حاصل کر لی۔ بی اے کے بعد اس کی ترقی کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر ہو گئی ہے۔ اب اس کے تمام بہن بھائی پڑھ رہے ہیں۔