PBM

پاکستان بیت المال

پاکستان بیت المال ایک خود مختار ادارہ کی حیثیت سے ۱۹۹۱ء کے ایکٹ (مقننہ) کے تحت وجود میں آیا۔ غربت کی بیخ کنی کے لئے پاکستان بیت المال کا کردار غریب ترین لوگوں پر مرکوز کردہ گوناگوں خدمات کے حوالے سے بیّن اور غیر معمولی ہے۔ پاکستان بیت المال مفلس‘ بیوہ‘ یتیم‘معذور‘ بے کس و لاغر اور دیگر ضرورت مند لوگوں کو بیت المال بورڈ سے منظور کردہ اہلیت کے معیار کی روشنی میں مدد فراہم کررہا ہے۔

نظریاتی اساس/بنیادی مقصد:

 

معاشرے کے غریب ترین (حاشیہ بردار) طبقے کا سماجی تحفظ۔

نصب العین:

 

بحالی‘ شفافیت اور حقدار تک رسائی کی بنیاد پر وطن کے لاکھوں حقدار لوگوں کی معاونت کرنا نافذالعمل لائحہ عمل کا خاصہ ہوگا۔

اہداف:

 

مفلس‘ بیوہ‘ یتیم‘بے کس‘ بے سہارا و لاغر اور دیگر ضرورت مند لوگوں کی بحالی‘ ضرورت مند یتیموں کے لئے تعلیمی وظائف اور حقدار ہونہار‘ ذہن طلباء کے لئے اپنی پیشہ وارانہ تعلیم کی تکمیل کے لئے مشاہرہ کا اہتمام اہداف کی تکمیل میں خصوصی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ حقداروں کے لئے رہائشی سہولیات کی فراہمی‘ نادار اور غریب لوگوں کو مفت علاج کی سہولت بہم پہنچانا‘ غرباء کے لئے فری ہسپتال اور بحالی مراکز کا قیام‘ خیراتی اداروں بشمول تعلیمی اور دستکاری ادارہ جات کی مالی معاونت۔ خودروزگار سکیموں کی حوصلہ افزائی اور بیت المال بورڈ سے منظورکردہ دیگر اقدامات پاکستان بیت المال کے اہداف تصورہوں گے۔

  The Pakistan Bait-ul-Mal ACT 1991