PBM

پاکستان بیت المال سکول برائے بحالی مزدور اطفال

  انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (مزدوروں کا عالمی ادارہ) نے بچوں کی مزدوری کے خاتمے کیلئے اپنے بین الاقوامی پروگرام کے ذریعے (آئی پی ای سی) ۱۹۹۶ء میں ایک سروے کیا، جس کے مطابق پاکستان میں ۳عشاریہ ۳ ملین بچے جن کی عمریں(۱۴۔۵) سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں سخت مشقت والی مزد وریو ں میں حصہ لے رہے ہیں۔
  بچوں کی مزدوری ایک ایسا مسئلہ ہے جہاں ریاست کی مداخلت بچوں کے حقوق کے تناظرمیں ضروری ہو گئی ، بچوں کی مزدوری پر قومی حکمت عملی اور عملی منصوبہ بندی بچوں کہ بدترین اور خطرناک مزدوری سے فوری نجات پر مبنی ہے۔مزدور بچوں کی بحالی کیلئے قومی مراکز ۱۹۹۵ سے ملک بھر میں قائم کیے گئے ہیں۔(۱۴۔۵) سال کے بچوں کو اِس سخت مشقت والی مزدوری سے نجات د لانے کے بعد اِن بچوں کوا ن مراکز میں داخل کرکے مفت تعلیم ، لباس ، جوتے اور وظیفے دیا جاتا ہے۔ پاکستان بیت المال سکول مراکز کی موجودہ تعداد ۱۵۸ ہے جن میں پنجاب = ۷۳، سندھ = ۳۶ ، خیبر پختونخواہ + فاٹا = ۲۵ ، بلوچستان= ۱۴ ،اسلام آباد وفاقی علاقہ/ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات = ۱۰ ہے ۱۹۵۷۴ طلباء (بشمول طلباء و طالبات ) اِن مراکز میں بنیادی تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 

مقاصد

 

 بچوں کومشقت زدہ ماحول سے نکا لنا۔
    دو ستانہ کمرئہ جماعت کے ماحول میں ان کو بنیادی تعلیم فراہم کرنا۔قومی دھارے والے سماجی ماحول میں لانے
    کیلئے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کرنا۔

اہلیت کا معیار

 

ان درجات میں مشقت طلب کارخانہ جات/بے دام و جبری مزدوری کا وجود در آیا ہے۔ مثلاً مُضّر صحت صنعت کا وجود /
  جبری مشقت ، بھٹہ خشت، قالین بافی ، کانکنی، کھا لوں کی رنگا ئی ، تعمیرات ، چوڑی سازی ، گھریلو کام کاج ، زراعت او ر گداگر ی۔
  آٹھ سےچودہ سال کی عمرتک کے ۱۲۰ بچوں کی دستیابی ۔
    پانچ سال کیلئے مزدوربچوں کی دستیابی۔
    صوبائی / علاقائی محکمہ مزدوراں اور وزارت محنت ، افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کی رہنمائی کی۔
   روشنی میں سفارشات۔

نمایاں خصوصیات

  ایک مرکز میں طلباء کی معیاری تعداد ۱۲۰ ہے۔
  روزانہ حاضری کی بنیاد پر ۔/۱۰ روپے وظیفہ والدین کے اکائونٹ کے توسط سے بچوں کو دیا جاتا ہے۔
 والدین کو زر گزرااوقات ۔/۳۰۰ روپے ماہانہ اجرت کی بنیاد پر بطور معاوضہ ادا کئے جاتے ہیں۔
  پرائمری سطح کے نصاب کو غیر رسمی تعلیم کے ذریعے ۴ سال میں پڑھایا جاتا ہے
     اِن مراکز ۱۹۵۷۴ طلباءسے کامیاب ہو کر جا چکے ہیں جبکہ۱۱۸۵۸بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے سرکاری سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔
  پی بی ایم کامیاب طلبا ء کو مزید تعلیم کیلئے سالانہ /۴۱۰۰ روپے وظیفہ دیتا ہے یعنی۔/۱۲۰۰ روپے تعلیم وظیفہ کے طور پر ۔/۵۰۰ روپے
   کتابیں ، (کتابیں محکمہ تعلیم دیتا ہے) اسٹیشنری اور۔/۳۶۰۰روپے والدین کیلئے زر گزر اوقات دیا جاتا ہے۔(آزاد کشمیر کی سطح پر) ۔
   باقی صوبوں میں۔/۳۶۰۰روپے تک وظیفہ دیا جاتا ہے۔ (کتابیں مبلغ ۔/۵۰۰ روپے متعلقہ صوبہ مفت فراہم کرتا ہے)