PBM

انفرادی مالی معاونت

انفرادی مالی معاونت کے ذریعے غریبوں ، بیوائوں ، نادار خواتین، یتیم اور معذور افراد کو تعلیم ، طبی علاج اور بحالی کے پروگراموں میں امداد کی جاتی ہے۔

مقاصد

 

   غریب افراد کی فوری ضرورت کو پورا کرنا۔
   غریب اور معذورمریضوں کی پیچیدہ بیماریوں کا علاج۔
   معاشی خود مختاری کے ذریعے بحالی۔
    پبلک سیکٹر میں تعلیمی اور تکنیکی اداروں کے مستحق اور ہونہار غریب طلبہ کو تعلیمی وظائف۔

اہلیت کا معیار

 

امداد پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر غریب اور مستحق افراد کو اس ترتیب سے دی جاتی ہے۔
   پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا افراد
    ایسے مستحق طلباء جن کا تعلیمی ریکارڈ شاندار ہو۔
    بیوہ خواتین جن کے زیر کفالت بچے ہوں۔
   معذور افراد جن کے زیرکفالت بچے ہوں۔
   بے سہارا بزرگ افراد (۶۵ سال سے زائد)
    ایسے غریب ترین افراد جو ۳ ماہ کے اندر اپنا روزگار شروع کرنا چاہتے ہوں۔
   یتمٰی۔
   محتاج۔
    غیر یقینی حالات/قدرتی آفات کا شکار لوگ۔
    ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدنی۔/۱۰۰۰۰ روپے تک ہو یا ان کی تنخواہ گریڈ ایک کے گورنمنٹ ملازم کے برابر ہو،
    غریب تصور کئے جائیں گے اور ایسے افراد مالی امداد ، علاج اور تعلیمی وظائف کے مستحق ہوں گے۔

نااہلیت

   گورنمنٹ کے ملازمیں اور ان کے گھر کے افراد
 دیگر فلاحی اداروں کی طرف سے امداد شدہ لوگ۔

نمایاں خصوصیات

 

مالی امداد کے لئے سال میں صرف ایک بار درخواست دی جاسکتی ہے باقی شعبوں میں جیسا کہ علاج معالجہ، تعلیمی وظائف
    بحالی پروگرام مستحق افراد کو یہ امداد سال میں یکمشت بھی مل سکتی ہے۔

طریقہ کار

 

سادہ کاغذپر درخواست امداد بمع تفصیل وہمراہ شناختی کارڈ کی نقل مہیا کی جائے گی۔
    تعلیمی وظائف کے لئے درخواست فارم تعلیمی ادارے کے سربراہ سے تصدیق ہونا چاہیے۔
   علاج معالجے کے لئے درخواست فارم’’ گورنمنٹ ہسپتال کے ایم ایس کی طرف سے علاج و معالجہ پر خرچ کی تفصیل وغیرہ پرمبنی
    ہوتا ہے‘‘ کی فراہمی۔
   پاکستان بیت المال کا تحقیقاتی افسر درخواست دہندہ کی طرف سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر اور اس کے حقدار ہونے کی
    تصدیق کرے گا۔
   مجاز عہدہ دار کی منظوری کے بعد کراس چیک دیا جائے گا جو کہ علاج معالجہ اور تعلیمی وظائف کی صورت میں متعلقہ ادارے کے
    (سربراہ) کے نام ہو گا جبکہ مالی امداد کی صورت میں مستحق فرد کے نام ہو گا۔